اتوار 11 اکتوبر 2026 - 06:33
کراچی؛ ”رہبرِ شہید کے منظومۂ فکری میں توحید کا مقام“ کے عنوان سے علمی نشست

حوزہ/جامعہ المصطفیٰ کراچی پاکستان میں شہید رہبرِ انقلابِ اسلامی حضرت آیت الله العظمیٰ امام سید علی حسینی خامنہ ای کے منظومۂ فکری میں توحید کا مقام“ کے عنوان سے ایک عظیم علمی نشست منعقد ہوئی؛ جس میں اساتذہ اور طلباء نے بھرپور شرکت کی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جامعہ المصطفیٰ کراچی پاکستان میں شہید رہبرِ انقلابِ اسلامی حضرت آیت الله العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ای کے منظومۂ فکری میں توحید کا مقام“ کے عنوان سے ایک عظیم علمی نشست منعقد ہوئی؛ جس میں اساتذہ اور طلباء نے بھرپور شرکت کی۔

کراچی؛ ”رہبرِ شہید کے منظومۂ فکری میں توحید کا مقام“ کے عنوان سے علمی نشست

نشست سے مولانا ڈاکٹر جواد حیدر ہاشمی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عقیدۂ توحید کے موضوع پر رہبرِ شہید انقلاب اسلامی کی کتابوں اور ان کے افکار و نظریات سے استفادہ کرنا ہمارے لیے نہایت اہم ہے۔ توحید کے بارے میں ان کی گفتگو کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ توحید محض ایک نظریاتی عقیدہ نہیں، بلکہ انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کی بنیاد ہے۔

گفتگو کا خلاصہ مندرجہ ذیل ہے:

1️⃣توحید تمام انبیائے الٰہی کی دعوت کا محور

اگر ہم حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک تمام انبیائے کرام کی دعوت کا جائزہ لیں تو واضح ہوتا ہے کہ ان کی دعوت کا بنیادی محور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی بندگی تھا۔

رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اپنی دعوت کا آغاز توحید کے پیغام سے فرمایا۔ آپؐ نے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی طرف بلایا اور اس عظیم مقصد کی راہ میں بے شمار مشکلات اور اذیتوں کا سامنا کیا۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ توحید محض ایک عقیدہ نہیں، بلکہ وہ بنیادی حقیقت ہے جس پر پورا دین قائم ہے۔ انبیائے الٰہی کی دعوت اور جدوجہد کا مرکزی مقصد انسان کو غیر اللہ کی بندگی سے نکال کر اللہ تعالیٰ کی حقیقی بندگی کی طرف رہنمائی کرنا تھا۔

کراچی؛ ”رہبرِ شہید کے منظومۂ فکری میں توحید کا مقام“ کے عنوان سے علمی نشست

2️⃣ایمان کے ساتھ استقامت

رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول ایک معروف حدیث میں دین کے حوالے سے جامع رہنمائی طلب کی گئی تو آپؐ نے فرمایا:«قُلْ آمَنْتُ بِاللّٰهِ ثُمَّ اسْتَقِمْ»ترجمہ: ’’کہو کہ میں اللہ پر ایمان لایا، پھر اس پر ثابت قدم رہو۔‘‘

یہ مختصر مگر جامع فرمان ہمیں دو بنیادی باتوں کی تعلیم دیتا ہے: پہلی، اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا؛ اور دوسری، اس ایمان پر ثابت قدم رہنا۔

ایمان لانا یقیناً اہم ہے، لیکن اس ایمان پر قائم رہنا بھی ایک بڑی آزمائش ہے۔ انسان کو زندگی میں مختلف مشکلات، خواہشات، مفادات اور معاشرتی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے حالات میں اپنے عقیدے اور دینی اصولوں پر ثابت قدم رہنا ہی حقیقی استقامت ہے۔

قرآن مجید میں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے، پھر وہ اس پر ثابت قدم رہے، ان کے لیے فرشتے نازل ہوتے ہیں اور انہیں خوف و غم سے آزاد ہونے کی بشارت دیتے ہیں۔(سورۂ فصلت، آیت ۳۰)

لہٰذا ہمیں صرف ایمان کے زبانی اقرار پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اپنے کردار، عمل اور طرزِ زندگی سے بھی اس ایمان کا ثبوت دینا چاہیے۔

3️⃣توحید محض زبانی اقرار نہیں، بلکہ عملی زندگی کا اصول

توحید کا مطلب صرف یہ تسلیم کرنا نہیں کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں، بلکہ اس عقیدے کے اثرات انسان کے کردار، اعمال اور فیصلوں میں بھی نمایاں ہونے چاہییں۔

اگر ہم زبان سے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اقرار کریں، لیکن عملی زندگی میں اس کے احکام کو نظرانداز کرتے رہیں تو ہمیں اپنے ایمان اور اعمال کا سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیے۔

حقیقی توحید انسان کی سوچ، کردار اور فیصلوں میں تبدیلی پیدا کرتی ہے۔ یہ اسے اللہ تعالیٰ کی اطاعت، عدل و انصاف کے قیام، حق کی حمایت اور دوسروں کے حقوق کی ادائیگی کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔

اسی طرح ایک توحیدی معاشرے میں بھی عدل و انصاف، انسانی حقوق اور الٰہی ہدایت کو بنیادی اہمیت حاصل ہونی چاہیے۔ چنانچہ توحید کے حقیقی اثرات صرف فرد کی ذاتی زندگی تک محدود نہیں رہتے، بلکہ پورے معاشرے میں ظاہر ہونے چاہییں۔

کراچی؛ ”رہبرِ شہید کے منظومۂ فکری میں توحید کا مقام“ کے عنوان سے علمی نشست

4️⃣خواہشات کی پیروی بھی توحید کے منافی

قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:«أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَٰهَهُ هَوَاهُ»ترجمہ: ’’کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش کو اپنا معبود بنا لیا؟‘‘(سورۂ جاثیہ، آیت ۲۳)

اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ انسان کو اپنی خواہشات کا غلام نہیں بننا چاہیے۔ جب انسان اللہ تعالیٰ کے احکام کے مقابلے میں اپنی خواہشات کو ترجیح دینے لگتا ہے تو وہ بندگی کے حقیقی تقاضوں سے دور ہونے لگتا ہے۔

انسان کی خواہشات اور ذاتی مفادات اگر اس کے فیصلوں پر اس طرح غالب آ جائیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو نظرانداز کرنے لگے تو یہ اس کے دینی و اخلاقی انحطاط کا سبب بن سکتا ہے۔

لہٰذا توحید کا تقاضا ہے کہ انسان اپنی خواہشات، مفادات اور فیصلوں کو اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے تابع رکھے اور اپنی زندگی کے ہر شعبے میں اس کی رضا کو مقدم سمجھے۔

5️⃣عبادت کا حقیقی مفہوم

قرآن مجید کی سورۂ توبہ، آیت ۳۱ میں ان لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا اپنے علماء اور راہبوں کو اپنا رب بنا لیا تھا۔

جب اہلِ کتاب میں سے ایک شخص نے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس آیت کے مفہوم کے بارے میں سوال کیا تو آپؐ نے اس کی وضاحت فرمائی کہ ان لوگوں کے علماء اور راہب جب کسی چیز کو حلال یا حرام قرار دیتے تو وہ ان کی بات قبول کر لیتے تھے۔

اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ عبادت کا مفہوم صرف ظاہری سجدے یا کسی کو زبان سے خدا کہنے تک محدود نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کے احکام کے مقابلے میں کسی کی بات کو غیر مشروط طور پر قبول کرنا بھی بندگی اور اطاعت کے حوالے سے ایک اہم مسئلہ ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو اپنے عقائد، اعمال اور فیصلوں میں الٰہی ہدایت کو بنیادی معیار بنانا چاہیے۔

حقیقی بندگی صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، لہٰذا اس کی اطاعت کو اپنی زندگی میں بنیادی حیثیت دینا ضروری ہے۔

آخری بات

آج ہم جس راستے پر قدم رکھ رہے ہیں، وہ صرف علم حاصل کرنے کا راستہ نہیں، بلکہ اپنے عقیدے، کردار اور عمل کو سنوارنے کا راستہ بھی ہے۔ دینی تعلیم کا حقیقی مقصد صرف معلومات حاصل کرنا نہیں، بلکہ ان تعلیمات کو اپنی زندگی میں نافذ کرنا اور ان کے ذریعے اپنی ذات اور معاشرے کی اصلاح کرنا بھی ہے۔

ہمیں چاہیے کہ عقیدۂ توحید کو صرف کتابوں، مباحث اور تقریروں تک محدود نہ رکھیں، بلکہ اسے اپنی انفرادی زندگی، اپنے فیصلوں، اپنے اخلاق اور اپنے معاشرتی کردار میں بھی نمایاں کریں۔ ہماری زندگی کے ہر شعبے میں اللہ تعالیٰ کی بندگی، اس کی اطاعت اور اس کی رضا کو بنیادی اہمیت حاصل ہونی چاہیے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha